موبائل کے معاشرے پر منفی اثرات
تحریر: محمد اسامہ شاہد موجودہ دور کو انفارمیشن ٹیکنالوجی کا دور کہا جاتا ہے۔ یہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کا ہی کمال ہے کہ آج ساری دنیا آپس میں اتنی مظبوط ہوچکی ہے جو کہ چند سال قبل تک سوچنا بھی محال تھا۔ایک وقت تھا کہ موبائل نام کی کوئی چیز اس دنیا میں نہیں تھی۔ تب لوگ انتہائی سکون کی زندگی بسر کر رہے تھے۔ نہ ذہنی کوفت تھی اور نہ ہی سر کا درد تھا۔ آج کل لوگ ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی دوڑ میں لگے ہوئے ہیں۔ جس قدر وہ تیز بھاگ رہے ہیں اس قدر پریشانیاں بھی بڑھتی جارہی ہیں۔ اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ جدید ٹیکنالوجی نے بہت ترقی کر لی ہے۔ اس جدید دور نے گراہم بیل کی ایجاد سے بڑھ کر ایجادات کر ڈالیں ہیں۔ موبائل فون بنایا، پھر اس میں مختلف قسم کے نت نئے پرزے ڈال دیے جس سے انٹرنیٹ چلنے لگا، نیٹ کی رفتار کم تھی تو تھری جی اور فورجی کی نیلامی کا سننے میں آیا اور پھر وہ بھی ہوگئی، موبائل فون دیکھنے میں ایک چھوٹی سی مشین ہے لیکن اس چھوٹی سی مشین نے ہماری زندگیوں کے طور طریقے اور خیالات بدل کر رکھ دیے ہیں۔ اس موبائل کی افادیت تو بہت ہے مگر بات نقصان کی ہوتو اس سے کئی گھر اجڑ چکے ہیں، کئی محلے ب...